ہجرت سے آنحضرت کی رحلت تک

علي(ع) رسول خدا(ص) كے امين

پيغمبر اكرم(ص) كو جب يہ حكم ملاكہ مكہ سے مدينہ تشريف لے جائيں تو آپ(ص) كو اپنے قبيلے كے افراد ميں كوئي بھى ايسا شخص نظر نہ آيا جو حضرت على (ع) سے زيادہ امين و صادق ہو چناچہ اس بناء پر رسول خدا نے على (ع) كو اپنا جانشين مقرر كيا اور فرمايا كہ لوگوں كو ان كى امانتيں جو آپ(ص) كے پاس تھيں واپس كر ديں اور آپ(ص) پر جو قرض واجب ہيں انھيں بھى ادا كر ديں اس كے بعد آنحضرت(ص) كى دختر فاطمہ(ع) اور بعض ديگر خواتين كو ساتھ لے كر مدينہ آجائيں _

رسول خدا(ص) كى ہجرت كے بعد حضرت على (ع) ان امور كو انجام دينے كے لئے جن كے بارے ميں آنحضرت(ص) نے فرمايا تھا تين دن تك مكہ ميں تشريف فرما رہے اس كے بعد آپ اپنى والدہ فاطمہ ' دختر رسول خدا حضرت فاطمہ(ع) فاطمہ بن زبير اور ديگر بعض عورتوں كے ہمراہ پيدل مدينہ كى جانب روانہ ہوئے اور قبا ميں پيغمبر(ص) سے جاملے

جس وقت رسول خدا(ص) كى نظر حضرت على (ع) پر پڑى تو ديكھا كہ حضرت على (ع) كے پيروں ميں پيدل چلنے سے چھاليں پڑ گئي ہيں اور ان سے خوں ٹپكنے لگا ہے پيغمبر اكرم(ص) كى انكھوں ميں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرط محبت سے گلے لگا ليا اور آپ كے حق مےں دعا كى اس كے بعد آپ نے لعاب دہن حضرت علي(ع) كے پيروں پر لگايا جس كى وجہ سے زخم بھر گئے