جنرل سیکرٹریٹ

جنرل سیکرٹریٹ

حضرت امام امیرالمومین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا وجود بنی نوع بشر ہر لطف الہی کا مجسم نمونہ ہے ۔جو کہ شہادت یا وفات سے ختم یا منتہی نہیں ہوتا کیونکہ یہ عالمین پر برسنے والی رحمت الہی کی بارش اور ایسی دائمی عطا پروردگار ہے جس پر نہ کوئی احسان جتایا جاتا ہے اور نہ کوئی زحمت اٹھانی پڑتی ہے۔یہ اسی کمال مطلق اور کل خیر ذات الہی کے نمائندگان میں سے ہیں جنہیں دولت وجود سے نوازہ گیا۔ اسی لیے حرم مطھر امیرالمومنین ؑ اسی علت اور سبب کا تسلسل ہے جو وجود امام ؑ کی تھی ۔یعنی جس علت کے تحت امام ؑ کا وجود تخلیق کیاگیا اسی کے تحت اس حرم مطھر کا وجود بھی باقی ہے اور جس طرح اما م ؑ اپنی حیاۃ ظاہری میں لوگوں کے لیے ایک مرکزی حیثیت کے حامل تھے اسی طرح آپکی قبر مطھر بھی مرجع خلائق جہاں ہے ۔جس طرح امام ؑ زمین پر اس کو ہ عظیم کہ جو اسے بکھرنے نہیں دیتااور اس میخ کہ جو اسے حالت قرار میں رکھے ہوئے تھے،کی طرح تھے یہ حرم مطھر بھی لوگوں میں ایک حد تک وہی کا سرانجام دے رہا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ حرم مطھر کا اس معاشرے کی تعمیر میں فعال دینی ،تمدتی اور تاریخی اثر ہو اور ایکسا معاشرہ تشکیل دینےمیں اپناکردار ادا کرے جو مضبوط اور متحد ہو اور جس حرم مطھر کے ساتھ فکری اور منھجی اعتبار سے منسلک ہونے کی وجہ سے فضیلت ،عدالت اور فلاح ورفاہ کا راج ہو ۔اسی طرح ہم اور معاشرے کے درمیان ایک ایسا فکری اور فعلی تعلق ہونا چاہیے جس سے معاشرہ فکری ،اقتصادی اور نفسیاتی اعتبار سے بلندی کی طرف پیش قدمی کرے ،اور یہاںاس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ اس موجود ہ دور میں یہ مرکز ہدایت ،افلاک عقائد کا ایک قطب اور ایسی رمز ہدایت ہے جو مختلف اور ایسے چیلنجز کے مقابلے میں روح امت کا دفاع کرتا ہےہمیشہ سے اسے زہر کرنے اور مکمل طور پر عروج حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور معاشرے کی مختلف سطوحات پر روحانی ،اخلاقی اور عقائدی  اعتبار سے منفی اثر مرتب کرتے ہیں اسی لیے اس عظیم مرکز کو اہمیت دینا اور سامنے لانا ایک انتہائی ضروری امر ہے۔

انہی تمام امور کے پیش نظر حرم مطھر کے انتظامات چلانے ،اسکی تعمیر و ترقی اور فعال دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے ایک جدید نظام ترتیب دیاگیا ہے۔جس میں تمام اہداف اور مطلوبہ مقاصد کو مکمل مہارت ،ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ ایک متمدن معاشرے کے تقاضوں کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

آرٹیکل (۹)

جنرل سیکرٹری۔

۱)یہ ادارتی کمیٹی کے مدیر ہوتے ہیں جن کا تعین صدر کی طرف سے مرجع کی موافقت کے بعد کیا جاتاہے اور جنرل سیکرٹری ہی حرم کا پہلا خادم شمار ہوتا ہے۔

۲) جنرل سیکرٹری کی مدت مدیرت ۳ سال ہوتی ہے جو فقط ایک بار قابل تجدید ہے اور اسکی ابتدا ان کے متعین ہونے کے احکامات جاری ہونے کے دن سے ہوتی ہے۔

۳)جنرل سیکرٹری اپنے نائب اور ادارتی کمیٹی کے پانچ اراکین کا تعین کرتے ہیں جن کی تعیین صدر سے تصدیق کے بعد ہی نافذ العمل شمار کی جاتی ہے۔

۴)  جنرل سیکر ٹری کمیٹی کے کسی بھی استعفیٰ قبول کر سکتے ہیں جس کا نفاذ صدر کی تصدیق کے بعد ہوگا۔