نجف کے بارے میں اہل بیت(ع) کی روایات اور حضرت امیر المومنین(ع) کی قبر کی زیارت کی فضیلت

ابی جارود سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: بانقیا(نجف) میں ہمیشہ زلزلے آیا کرتے تھے ایک دفعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بانقیا(نجف)سے گزرے تو انہوں نے رات وہیں قیام فرمایا، جب اہل بانقیا صبح اٹھے تو انہوں نے دیکھا کہ زمین میں زلزلہ نہیں ہے تو ان لوگوں نے کہا:ایسا کیا ہوا ہے کہ جو زمین میں زلزلہ نہیں ہے؟ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ایک بزرگ اور ان کے غلام نے یہاں رات قیام کیا تھا۔ یہ سن کر اہل بانقیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور ان سے کہا: اس زمین میں ہر رات زلزلہ آتا تھا لیکن آج کی رات کوئی زلزلہ نہیں آیا لہذا آپ ہمارے ہاں مزید ایک رات بسر کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اہل بانقیا کی درخواست پر اگلی رات بھی وہیں گزاری اور اس رات بھی گزشتہ رات کی طرح زلزلہ نہ آیا تو اہل بانقیا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ ہمارے پاس ہی سکونت اختیار کرلیں اور آپ ہم سے جس چیز کا مطالبہ کریں گے ہم اسے پورا کریں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انھیں جواب دیتے ہوئے فرمایا: میں یہاں مستقل نہیں رہ سکتا لیکن اگر آپ لوگ مجھے یہ زمین فروخت کر دیں تو آئندہ یہاں زلزلہ نہیں آئے گا۔ یہ سننے کے بعد اہل بانقیا نے کہا: ہم یہ زمین آپ کو دیتے ہیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: میں یہ زمین خریدے بغیر نہیں لوں گا۔ اہل بانقیا نے کہا: آپ جتنے میں بھی اسے خریدنا چاہتے ہیں ہم اسے آپ کو بیچنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس زمین کو سات بھیڑوں اور چار گدھوں کے عوض میں خرید لیا۔ اس علاقے کا نام بانقیا بھی اس وجہ سے ہوا کیونکہ بھیڑ کو بنطیہ میں نقیا کہتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا جب اس غلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ زمین خریدتے ہوئے دیکھا تو اس نےکہا: اے خلیل الرحمن آپ اس زمین کا کیا کریں گے کہ جس میں نہ تو زراعت ہے اور نہ ہی کوئی چراگاہ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس غلام سے فرمایا: خاموش ہو جاؤ، اللہ تعالی اس زمین سے ستر ہزار ایسے افراد کو محشور کرے گا کہ جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے اور ان میں سے ہر شخص اتنے اتنے لوگوں کی شفاعت کرے گا۔

ابی سعید خدری سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوفہ عربوں کا سر، اللہ کا نیزہ اور ایمان کا خزانہ ہے۔

نجف اشرف دارالسلام، موت کے بعد مومنین کی آماجگاہ  اور جنت عدن کا ایک ٹکڑا  ہے، نجف اشرف کی فضیلت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، نجف کے ذاتی اور عرضی شرف کا ہر صاحب عقل معترف ہے کیونکہ سید الوصین امام المتقین(ع) نے اس خطہ کو اختیار کیا اور اپنے لیے آخری آرامگاہ قرار دیا۔

مفضل بن عمر سے مروی ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: نجف اس پہاڑ کا حصہ ہے کہ جہاں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام سے کلام کی، حضرت عیسی علیہ السلام کو مقدس قرار دیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا، حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا حبیب منتخب کیا اور انبیاء علیھم السلام کے لیے اسے مسکن قرار دیا۔

ابن عباس اور انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت امام علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی! اللہ تعالی نے اہل بیت کی مودت کو تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیش کیا تو سب سے پہلے اسے ساتویں آسمان نے قبول کیا تو اللہ نے اسے اپنے عرش و کرسی سے زینت دی، پھر جب چوتھے نے اسے قبول کیا تو اسے بیت معمور سے شرف بخشا پھر جب آسمانِ دنیا نے قبول کیا تو اسے ستاروں سے زینت دی پھر جب سر زمین حجاز نے قبول کیا تو اسے بیت الحرام سے شرف بخشا پھر جب مدینہ طیبہ نے قبول کیا تو اسے میری قبر سے شرف بخشا پھر جب سرزمین کوفہ نے اسے قبول کیا تو اسے اے علی! تیری قبر سے شرف بخشا، تب حضرت امام علی علیہ السلام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میری قبرِ عراق کے شہر کوفہ میں ہوگی؟ آنحضرت نے فرمایا: ہاں اے علی تم شہید کیے جاؤ گے پشت کوفہ میں دو بڑی عمارتوں اور شفاف پتھروں کے درمیان دفن کیے جاؤں گے، اس امت کا شقی عبد الرحمن بن ملجم تمہیں قتل کرے گا، اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! ابن ملجم کا عذاب اس شخص سے سخت ہے جس نے ناقہ نبی صالح کی کونچیں کاٹی تھیں، اے علی!عراق سے ایک ہزار تلوار تیری مدد کریں گی''

(فرحة الغری ب 1ح1ص106/ الغارات ج2ص837باب 1/ مستدرک الوسائل ج10ص204باب 12/ تاریخ قم ب١ف8)

امیر المومنین علیہ السلام اکثر نجف کی طرف آتے اور اسے شرفِ نگاہ بخشنے کے بعد فرماتے: تیرا منظر کتنا حسین ہے اور تیرا اندر کتنا خوشگوار ہے، خدایا میری قبر یہاں قرار دے۔(فرحةالغری ب2ص115/ ارشاد القلوب/ فضل مشہد الغروی)

عقبہ ابن علقمہ نے کہا ہے کہ :حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے سرزمین نجف کو نجف سے لے کر حیرہ اور کوفہ تک وہاں کے زمینداروں سے چالیس ہزار درہم میں خریدا، اور اس خریداری پر چند افراد کو گواہ بنایا، کسی نے کہا: اے امیرالمومنین! اتنی رقم سے آپ ایک ایسی زمین کو خرید رہے ہیں جو بنجر ہے تو اس کے جواب میں امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا ہے: پشتِ کوفہ سے 70ہزار لوگ محشور ہوں گے جو بلا حساب بہشت میں داخل ہوں گے، تب میں نے چاہا  کہ وہ سب میری ملکیت سے محشور ہوں۔(فضل الکوفہ ص41 ج6 ص13/ فرحة الغری ب2 ح١ص109)

ابو بصیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہماری ولایت اللہ عزوجل کی ولایت ہے کہ جس کے ساتھ اللہ نے ہر نبی کو مبعوث فرمایا ہے، اللہ تعالی نے ہماری ولایت کو تمام آسمانوں، زمینوں،  پہاڑوں اور تمام شہروں کو پیش کیا تا ہم اہل کوفہ کی طرح کسی نے اسے قبول نہ کیا اور کوفہ کی جانب میں ایک ایسی قبر ہے کہ جو بھی غمزدہ وہاں جائے گا تو اللہ تعالی اس کے غم کو دور کر دے گا اور اس کی دعا کو قبول فرمائے گا اور وہ شخص خوشحال اپنے گھر پلٹے گا۔

(امالی للمفید ص142 ح9 المجلس 17/ مستدرک الوسائل ج10 ص212 ب16 ح1)

ابان بن تغلب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور ابو حمزہ ثمالی کے واسطے سے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: گویا کہ  میں قائم آل محمد کو دیکھ رہا ہوں کہ نجف میں اس کا ظہور ہوا ہے اور انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پرچم لہرایا ہے…۔

(غیبت نعمانی ب19 ح14/ کمال الدین و تمام النعمة باب 58 فی نوادر الکتاب)

ابی اسامہ کہتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: کوفہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اس میں حضرت نوح(ع) اورحضرت ابراہیم(ع) کی قبر ہے اس میں تین سو نبی اور چھ سو وصی مدفون ہیں اور سید  الاوصیاء امیر المومنین علی بن ابی طالب(ع) کی قبر بھی اسی خطہ میں ہے۔

حسان بن مہران سے مروی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں: مکہ اللہ کا حرم ہے، مدینہ رسول خدا (ص) کا حرم ہے اور کوفہ میرا حرم ہے جو ظالم بھی یہاں فساد پھیلانے کی کوشش کرے گا اللہ تعالی اس کو تباہ کر دے گا۔

ابی بکر حضرمی کہتا ہے کہ میں نے امام باقر علیہ السلام سے سوال کیا کہ حرمِ خدا اور حرمِ رسول(ص) کے بعد کون سی سرزمین افضل ہے تو امام(ع) نے فرمایا: اے ابی بکر کوفہ ان دونوں کے بعد سب سے زیادہ افضل ہے، کوفہ پاک و طاہر جگہ ہے، اس میں انبیاء اور مرسلین کی قبور ہیں، مرسلین اور انبیاء کے علاوہ یہاں صادقین کی قبریں ہیں، اس شہر میں مسجد سہیل(سہلہ) ہے اللہ نے کوئی ایسا نبی مبعوث نہیں کیا کہ جس نے اس مسجد میں نماز نہ پڑھی ہو، اس شہر میں اللہ کا عدل ظاہر ہو گا اور اسی شہر میں قائم آل محمد اور ان کے بعد ان کے جانشین رہیں گے اور یہ شہر انبیاء، اوصیاء اور صالحین کا مسکن بھی ہے۔

شیخ کلینی نے ''القوی'' میں لکھا ہے کہ یونس بن وہب قصری کہتا ہے میں مدینہ آیا اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے امام(ع) سے کہا: میری جان آپ پر قربان ہو جائے میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں لیکن میں نے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زیارت نہیں کی۔ یہ سن کر امام(ع) نے فرمایا: تم نے جو کچھ کیا وہ بہت برا کیا اگر تم ہمارے شیعوں میں سے نہ ہوتے تو میں تمہاری طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کرتا………..

میں(یونس بن وہب) نے کہا: میری جان آپ پر قربان ہو جائے مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔

امام (ع) نے فرمایا: آگاہ ہو جاؤ اللہ تعالی کے نزدیک حضرت امیر المومنین(ع) تمام آئمہ سے افضل ہیں…………

شیخ کلینی نے القوی میں لکھا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب(ع) کی زیارت کے لئے پیدل چل کر جائے تو اللہ تعالی اس کے ہر قدم کے بدلے میں حج اور عمرہ کا ثواب عطا کرتا ہے اور اگر وہ زیارت کے بعد پیدل ہی واپس آئے تو اللہ تعالی اس کے ہر قدم کے بدلے دو حج اور دو عمرہ کا ثواب عطا کرتا ہے۔

عبد اللہ بن طلحہ کہتا ہے: میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام(ع) نے مجھ سے فرمایا: اے عبد اللہ بن طلحہ کیا تم میرے بابا امام حسین(ع) کی زیارت کرتے ہو؟ تو میں نے کہا: جی ہاں ہم ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ پھر امام(ع) نے فرمایا: کیا تم ہر جمعہ ان کی زیارت کے لئے جاتے ہو؟ تو میں نے کہا :نہیں۔  امام (ع) نے فرمایا:  ہر مہینے ان کی زیارت کے لئے جاتے ہو؟ میں نے کہا:نہیں۔  امام نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے سخت دل کرد یا ہے امام حسین(ع) کی زیارت ایک حج اور ایک عمرہ کے برابر ہے اور میرے بابا حضرت علی بن ابی طالب(ع) کی زیارت دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔

جعفر بن محمد بن مالک سے مروی ایک روایت میں راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ وہاں حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ذکر ہوا تو امام جعفر صادق علیہ السلام سے ابن مارد نے پوچھا:  جو شخص حضرت امیر المومنین(ع) کی زیارت کرتا ہے اسے کتنا ثواب ملتا ہے؟ تو امام(ع) نے فرمایا: اے ابن مارد جو بھی میرے جد کے حق کی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرتا ہے اللہ اس کے ہر قدم کے بدلے مقبول حج اور مبرور عمرہ کا ثواب عطا  کرتا ہے،  خدا کی قسم! اے ابن مارد اللہ تعالی اس قدم کو جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا کہ جو حضرت امیر المومنین(ع) کی زیارت کے لئے پیدل یا سواری پر غبار آلود ہوا ہے، اے ابن  مارد اس حدیث کو سونے کے پانی سے لکھ لو۔

واعظِ اہلِ حجاز ابی سائی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: اے فرزند رسول اس شخص کا کتنا ثواب ہے کہ جو حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زیارت کرے اور ان کی قبر کو تعمیر کرے؟ تو امام(ع) نے فرمایا: اے ابا عامر میرے والد بزرگوار نے اپنے بابا سے اور انھوں نے اپنے  جد امجد امام حسین بن علی علیہ السلام سے اور انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے سنا ہے کہ: ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا: تمہیں عراق کی سرزمین پہ شہید کر دیا جائے گا اور تم وہیں عراق میں ہی دفن ہو گے۔ تو حضرت علی(ع) نے رسول خدا(ص) سے پوچھا: جو ہماری قبروں کی زیارت کرے اور انہیں تعمیر کرے اس کا کتنا ثواب ہے؟ تو رسول خدا(ص) نے فرمایا: اے اباالحسن اللہ تعالی نے تمہاری اور تمہاری اولاد کی قبروں کو جنت کا حصہ اور جنت کی سرزمین قرار دیا ہے اللہ تعالی نے اپنی مخلوق میں نجباء اور اپنے بندوں میں سے منتخب کردہ افراد کے دلوں میں تمہارے لیے اشتیاق قرار دیا ہے کہ جو تمہاری محبت میں ذلت اور اذیت کو برداشت کریں گے تمہاری قبروں کو تعمیر کریں گے اور کثرت سے تمہاری قبروں کی زیارت کے لئے آئیں گے اور اس سے خدا کے قرب اور رسول(ص) کی مودّت چاہیں گے، اے علی(ع) یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے میری شفاعت خاص ہے اور یہی لوگ میرے پاس حوض کوثر پہ آئیں گے اور جنت میں میری زیارت کا شرف حاصل کریں گے۔ اے علی(ع) جو بھی تمہاری قبور کی تعمیر کرے اس کا یہ عمل  ایسے ہی ہے کہ جیسے اس نے سلیمان بن داؤد(ع) کی بیت المقدس بنانے میں مدد کی اور جو بھی تمہاری قبور کی زیارت کرے گا اللہ تعالی اسے حجة الاسلام کے بعد ستر حج کے برابر ثواب عطا کرے گا اور وہ گناہوں سے پاک ہو جائے گا اور تمہاری زیارت سے لوٹتے ہوئے ایسے ہو جائے گا کہ جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ تمہیں بشارت ہو اور تم بھی اپنے دوستوں اور چاہنے والوں کو جنت کی بشارت دے دو اور ان کی آنکھوں کو ایسی چیز کے ذریعے ٹھنڈک بخشو کہ جسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کی سوچ بیدار ہوئی ہے لیکن انسانوں میں موجود گھٹیا ترین لوگ تمہاری قبروں کی زیارت کرنے والوں کو زیارت کرنے پہ اس طرح سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں گے جیسے کسی زانیہ کو زنا کی وجہ سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور طعن و تشنیع کرنے والے یہ لوگ ہی میری امت کے شریر اور برے ترین لوگ ہیں ان کو نہ تو میری شفاعت نصیب ہو گی اور نہ ہی یہ لوگ میرے پاس حوض کوثر پہ آ سکیں گے۔

مفضل بن عمر جعفی کہتا ہے کہ ایک دفعہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: میں نجف کی زیارت کے لئے بہت مشتاق ہوں۔ تو امام (ع) نے فرمایا: نجف کے لئے تمہارے اشتیاق کی کیا وجہ ہے؟ تو میں نے کہا: مجھے حضرت امیر المومنین(ع) کی زیارت بہت پسند ہے۔ تو امام(ع) نے فرمایا:کیا تمہیں حضرت امیر المومنین(ع) کی زیارت کی فضلیت بھی معلوم ہے؟ تو میں نے کہا: اے فرزندِ رسول(ص) مجھے اس کی فضیلت معلوم نہیں لیکن آپ مجھے اس سے آگاہ فرما دیں۔ تو امام(ع) نے فرمایا: یہ جان لو کہ جب تم حضرت امیر المومنین(ع) کی زیارت کرتے ہو تو تم حضرت آدم(ع) کی ہڈیوں، حضرت نوح(ع) کے بدن اور حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب(ع) کے جسم کی زیارت کرتے ہو پس تم اولین کے آباء، حضرت محمد خاتم النبیین(ص) اور حضرت علی سید الوصیین(ع) کی زائر شمار ہوتے ہو، حضرت علی(ع) کی زیارت کرنے والا جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیتا ہے لہذا سوئے ہوئے شخص کی طرح خیر و بھلائی سے غفلت میں نہ پڑے رہنا جس خطہ پر سب سے پہلے خدا کی عبادت کی گئی وہ کوفہ کی سرزمین ہے، جب اللہ تعالی نے ملائکہ کو آدم(ع) کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ملائکہ نے کوفہ کی  ہی سرزمین پر ہی سجدہ کیا۔

کوفہ کی جانب میں ایک قبر ہے کہ جس کی زیارت کے لیے جو پریشان حال اور غم زدہ آتا ہے اور وہاں چار رکعت نما زادا کرتا ہے اللہ اسے مسرور و خوشحال واپس لوٹاتا ہے۔

 اور ہم کہتے ہیں کہ کوفہ کی پشت میں ایک قبر ہے کہ جس کی طرف جو لاعلاج بھی رجوع کرتا ہے اللہ تعالی اسے شفاء عطا کرتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نجف میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے جوار میں رہنے اور امام حسین علیہ السلام کے جوار میں رہنے کے بارے میں پوچھا گیا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب(ع) کی قبر کے جوار میں ایک رات گزارنا سات سو سال کی عبادت سے افضل ہے اور حضرت امام حسین(ع) کے قبر کے جوار میں ایک رات گزارنا ستر سال کی عبادت سے افضل ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے جوار میں ایک رات گزارنا سات سو سال کے برابر ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی قبر کے پاس نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیاتو انھوں نے فرمایا:حضرت امیر المومنین(ع) کی قبر کے پاس نماز پڑھنے کا ثواب دو لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔