مسجد الخضراء یا الخضرۃ

حرم علوی کی چار دیواری کی شمالی جانب کا حصہ جہاں مشرقی جانب کے حصے کے ساتھ مل رہا ہے وہاں یہ مسجد واقع ہے۔ حکومت نے مسجد کے ایک تہائی حصے کو مسمار کردیا تھا اور صحن شریف کے چاروں طرف جو راستہ ہے اسکی توسیع کیلئے اس مسجد کا کافی سارا حصہ راستے میں شامل کر دیا گیا۔
اور گذشتہ صدی میں ۸۰ کی دہائی میں آیۃاللہ العظمیٰ السید الخوئی (قدہ)نے حکم دیا کہ مسجد خضراء کی پرانی عمارت کو مسمار کر کے نئی عمارت تعمیر کی جائے۔ السید الخوئی (قدہ) اسی مسجد میں امام جماعت تھے اور انہوں نے اپنے علمی دروس(بحث خارج فقہ و اصول)کیلئے اسی مسجد کا انتخاب کیا تھا۔
اورالسید الخوئی نے اپنی جگہ سماحۃآیۃاللہ العظمیٰ السید علی السیستانی دام ظلہ الوارف کو تدریس و جماعت کے لیے مقرر کیا تھا اور آیۃ اللہ السید علی السیستانی کئی سال تک اسی سیرت پر کاربند رہے۔ پھر ادارہء اوقاف جو گذشتہ حکومت کے تابع تھا اس نے ترمیم کے بہانے مسجد کو بند کر دیا